Wednesday, July 8, 2015

محبتیں ٹوٹ جائیں تو


محبتیں ٹوٹ جائیں تو 
باقی۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ نہیں رہتا
ہمیشہ دُکھ ہی ملتا ہے
کہیں بھی سُکھ نہیں رہتا

محبتیں ٹوٹ جانے سے
انا کی جنگ ابھرتی ہے
قبیلے کوچ کرتے ہیں
شہر سنسان ہوتے ہیں

انا ہے ازل سے دشمن
محبت کے قبیلوں کی
جو دامن چھوٹ جائیں
تو ہمیشہ ناشاد رہتے ہیں

سنو۔۔۔۔ تم جنگ مت لڑنا
انا کے جال مت بھنسنا
انا دل کو جلاتی ہے
ہمیں سنگسار کرتی ہے

محبت پھول کی مانند
ہمیشہ خوشبو بکھیرتی ہے
انا غم خار کرتی ہے
ہمیشہ برباد کرتی ہے

محبت کی کتابوں میں
نصاب عشق ملتا ہے
انا کا ہے رواج الٹا
کتاب الٹی نصاب الٹا

میری مانو یقیں کر لو
محبتیں ٹوٹ جائیں تو
باقی۔۔۔۔۔۔۔ 
کچھ نہیں رہتا

سید وقاص شاہ

0 comments: