اک تیرے بعد محبت سے دَستبردار ہو گئے
بدن ٹوٹا ایسا کے خار خار ہو گئے ۔۔۔
یہ جنگِ محبت بھی عجب رنگ بکھیرتی ہے
دلِ لشکر کے بس اِک تم ہی اَلم بردار ہو گئے۔۔۔
گزارہ وقت گزاری میں مگر پھر بھی
میری آنکھ کے جگنو تیرے وفا دار ہو گئے۔۔۔
ہماری سوچ کے پیمانے کا کچھ حال یوں بھی ہے
جب ٹوٹا تَسسلسل تو پھر گرفتار ہو گئے۔۔۔
مانا کے ہر چیز مُیسر ہے دل بہلانے کے لیے
نجانے کیوں ۔۔۔مگر پھر بھی، تیرے طلبگار ہو گئے۔۔۔۔
شعر کیا چیز ہے، یہ غزل کیا ہے وقاص
حُسنِ یار پر لِکھا۔۔۔۔ کہ ھم بھی نظم نِگار ہو گئے
سید وقاص شاہ
بدن ٹوٹا ایسا کے خار خار ہو گئے ۔۔۔
یہ جنگِ محبت بھی عجب رنگ بکھیرتی ہے
دلِ لشکر کے بس اِک تم ہی اَلم بردار ہو گئے۔۔۔
گزارہ وقت گزاری میں مگر پھر بھی
میری آنکھ کے جگنو تیرے وفا دار ہو گئے۔۔۔
ہماری سوچ کے پیمانے کا کچھ حال یوں بھی ہے
جب ٹوٹا تَسسلسل تو پھر گرفتار ہو گئے۔۔۔
مانا کے ہر چیز مُیسر ہے دل بہلانے کے لیے
نجانے کیوں ۔۔۔مگر پھر بھی، تیرے طلبگار ہو گئے۔۔۔۔
شعر کیا چیز ہے، یہ غزل کیا ہے وقاص
حُسنِ یار پر لِکھا۔۔۔۔ کہ ھم بھی نظم نِگار ہو گئے
سید وقاص شاہ

0 comments:
Post a Comment